خیبر پختونخوا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باعث اہم شخصیات کے پروٹوکول اخراجات میں 50 فیصد سے زائد کا بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے صوبائی بجٹ اور خزانے پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ پروٹوکول اخراجات کے اس غیر معمولی اضافے کے باعث متعلقہ اداروں کی جانب سے محکمہ خزانہ سے اضافی فنڈز طلب کر لیے گئے ہیں۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ریسکیو 1122، ڈبلیو ایس ایس پی (WSSP)، ٹریفک پولیس اور کیپیٹل سٹی پولیس کے روزمرہ اخراجات میں محض چار دنوں کے دوران 30 فیصد سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اخراجات کے اس بحران سے نمٹنے کے لیے ڈبلیو ایس ایس پی نے پیٹرولیم قیمتوں کے باعث بعض اہم نکات پر نظرثانی شروع کر دی ہے اور اپنی سروسز کو محدود کرنے کی تجویز بھی دے دی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس وقت ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 73 روپے کا اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے گاڑیوں کے فیول بجٹ آؤٹ ہو چکے ہیں۔
حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے پروٹوکول اخراجات کو قابو کرنے کے لیے ایک بڑا فیصلہ زیرِ غور ہے، جس کے تحت بعض اہم شخصیات سے پولیس سیکیورٹی واپس لینے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبے کی وی آئی پی شخصیات، دوسرے صوبوں سے آنے والے مہمانوں اور صوبے میں موجود غیر ملکی سفارت کاروں کی گاڑیوں کو دیے جانے والے پروٹوکول کے باعث بجٹ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پولیس، وزراء اور دیگر وی آئی پیز کے اس پروٹوکول کو محدود کیے بغیر محکموں کے خسارے کو پورا کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔