اسلام آباد (این این آئی، حسبان میڈیا)
قومی احتساب بیورو (نیب) نے سرکاری امور میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق ماضی میں التواء کا شکار رہنے والی بااثر سیاسی شخصیات کی پرانی انکوائریاں اور تحقیقات دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، احتسابی ادارے نے ان تمام مقدمات پر دوبارہ توجہ مرکوز کر دی ہے جن کی پیشرفت ماضی میں سست روی کا شکار رہی تھی۔ اس نئی مہم کے تحت ایک انتہائی بااثر سیاسی و مذہبی شخصیت کے قریبی حلقے اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، نیب حکام نے ماضی کے زیرِ التواء مقدمات کا ریکارڈ طلب کر کے سابقہ کارروائیوں کا ازسرِ نو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیرِ غور معاملات اور تحقیقات کسی ایک مخصوص شخصیت تک محدود نہیں ہیں، بلکہ متعلقہ سیاسی و مذہبی رہنما کے خاندان کے ارکان اور ان کے قریبی مالی و سیاسی شراکت داروں کو بھی اس تفتیش کے دائرے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ ان کیسز میں سابقہ حکومتوں کے ادوار کے دوران ہونے والی مبینہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کا ریکارڈ کھنگالا جا رہا ہے جو پہلے بھی احتسابی اداروں کی نظر میں آ چکی تھیں۔
احتسابی بیورو کے اس جارحانہ اقدام کو ملکی سیاسی منظر نامے میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نیب کی جانب سے فائلوں کو دوبارہ کھولے جانے اور متعلقہ ریکارڈ کی چھان بین سے آنے والے دنوں میں کئی ہائی پروفائل گرفتاریاں یا سخت قانونی کارروائیاں متوقع ہیں، جس سے سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔