پشاور (خبرنگار خصوصی، حسبان میڈیا)
خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں عوام کو پٹرول ریلیف اسکیم کے تحت سہولیات فراہم نہ کرنے والے پٹرول پمپس کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبے بھر کے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر 24 گھنٹے کے اندر اندر ایسے پٹرول پمپس کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، ابتدائی طور پر پشاور میں پانچ ایسے بڑے پٹرول پمپس کی نشان دہی کر لی گئی ہے جو ریلیف اسکیم کے نفاذ میں لیت و لعل سے کام لے رہے تھے۔
سرکاری حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق، پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں نشان دہی کا عمل مکمل ہونے کے بعد یہ فہرستیں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو ارسال کی جائیں گی۔ جس کے بعد وزیر اعظم پٹرول ریلیف اسکیم کے ثمرات عوام تک نہ پہنچانے والے تمام پٹرول پمپس کو پیر کے روز سے باقاعدہ سیل کرنے (بند کرنے) کا آغاز کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ان پمپس کے مالکان کے خلاف بھاری جرمانے اور دیگر سخت قانونی اقدامات بھی عمل میں لائے جائیں گے۔
مزید برآں، صوبائی انتظامیہ نے ایک ہی مقام پر قائم سی این جی اور پٹرول پمپس کے خلاف بھی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ سابقہ ادوار میں سیاسی بنیادوں یا غلط طریقے سے جاری کیے گئے سی این جی لائسنسوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی گئی ہیں تاکہ ان پمپس کی قانونی حیثیت کی مکمل جانچ پڑتال کی جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ کے سربراہان کو واضح احکامات دیے گئے ہیں کہ عوامی ریلیف اسکیموں میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا بلیک میلنگ کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔