اقبال اور افغانستان
محبت، اخوت اور مشترکہ تہذیبی ورثے کا ایک فکری مطالعہ
تحریر و تحقیق - حبیب الحسن یاد
گزشتہ ایک ماہ سے قومی
شاعر، مفکر اور فلسفی حکیم الامت علامہ محمد اقبال اور افغان قوم کے بارے میں ان کے خیالات، اقبال کے کلام میں افغانوں اور افغانستان کے ذکر، نیز افغان قوم کے ساتھ ان کی محبت اور قلبی وابستگی کے موضوع پر مختلف کتابوں کے مطالعے کا موقع ملا۔ اقبال کا کلام پڑھنے اور ان کے افکار کا جائزہ لینے کے دوران یہ موضوع میرے لیے نہایت دلچسپ اور فکر انگیز ثابت ہوا۔
سوچا کہ کیوں نہ علامہ اقبال کے یومِ ولادت کی مناسبت سے اپنے اس مطالعے کا کچھ خلاصہ قارئین کے سامنے پیش کیا جائے۔ میری خواہش ہے کہ اس موضوع پر اردو، انگریزی اور پشتو تینوں زبانوں میں چند مضامین تحریر کروں، تاکہ علامہ اقبال کی زندگی، ان کی فکری و فلسفیانہ سوچ اور بالخصوص افغانستان اور افغان قوم کے ساتھ ان کی محبت اور وابستگی کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جا سکے۔
گزشتہ دنوں افغانستان کی موجودہ حکومت کے ایک ترجمان کی جانب سے بھی یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان کو علامہ اقبال کے افغان قوم کے بارے میں خیالات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے افغانوں کے ساتھ اچھے برتاؤ اور افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے فروغ کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس حوالے سے میری یہ بھی گزارش ہے کہ افغانستان کے عوام اور وہاں کی موجودہ حکومت کو بھی علامہ اقبال کے افکار کا مطالعہ کرنا چاہیے اور یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ برصغیر کے اس عظیم شاعر اور مفکر نے افغان قوم کو اپنے فکری اور تہذیبی تصور میں کیا مقام دیا تھا۔ انہوں نے افغانوں کے لیے کس محبت، احترام اور اپنائیت کا اظہار کیا اور کس طرح نسلی، لسانی اور قومی تعصبات سے بالاتر ہوکر انسانوں کے درمیان اتحاد، اخوت اور مشترکہ اقدار کی بات کی۔
اقبال کا تاریخی دورۂ افغانستان، 1933ء
علامہ اقبال کا تاریخی دورۂ افغانستان اس حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اکتوبر 1933ء میں افغانستان کے بادشاہ محمد نادر شاہ کی دعوت پر علامہ اقبال، سر راس مسعود اور مولانا سید سلیمان ندوی پر مشتمل ایک علمی وفد افغانستان روانہ ہوا۔ اس وفد کا بنیادی مقصد افغانستان میں جدید تعلیم اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ترقی، بالخصوص کابل یونیورسٹی کے حوالے سے مشاورت کرنا تھا۔
یہ سفر پشاور سے شروع ہوا۔ اقبال اور سر راس مسعود 21 اکتوبر کو پشاور سے جلال آباد کے راستے کابل روانہ ہوئے۔ مولانا سید سلیمان ندوی بھی اس وفد میں بعد ازاں شامل ہوئے۔ خیبر کے تاریخی درے سے گزرتے ہوئے افغانستان کی سرزمین میں داخل ہونے کا یہ سفر اقبال کے لیے محض ایک سفارتی یا علمی دورہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسے خطے کی زیارت بھی تھی جس کی تاریخ، تہذیب اور علمی ورثے سے انہیں گہری دلچسپی تھی۔
کابل پہنچنے پر افغان حکومت کی جانب سے وفد کا استقبال کیا گیا۔ اقبال کو شاہ محمد نادر شاہ سے ملاقات کا موقع ملا۔ انہوں نے تعلیمی مشاورتی اجلاسوں میں شرکت کی اور افغانستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کیے۔
اس دورے کے دوران اقبال نے افغان دانشوروں، اہل علم اور حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں بھی کیں۔ کابل میں ادبی حلقوں کی تقریبات میں شرکت اور وہاں کے علمی ماحول کا مشاہدہ بھی ان کے سفر کا اہم حصہ تھا۔
بعد ازاں انہوں نے غزنی کا سفر کیا، جہاں حکیم سنائی غزنوی اور سلطان محمود غزنوی کے مزارات پر حاضری دی۔ قندھار میں خرقہ مبارک کی زیارت اور احمد شاہ ابدالی کے مزار پر حاضری بھی اس تاریخی سفر کے اہم مراحل تھے۔
ان مقامات کی زیارت نے اقبال کے قلب و ذہن پر گہرے نقوش چھوڑے، جن کا اظہار بعد میں ان کی فارسی مثنوی ’’مسافر‘‘ میں ملتا ہے۔
مثنوی مسافر: افغانستان سے اقبال کی فکری وابستگی
اقبال نے اپنے دورۂ افغانستان کے مشاہدات اور تاثرات کو فارسی مثنوی ’’مسافر‘‘ میں محفوظ کیا۔ یہ مثنوی محض ایک سفرنامہ نہیں بلکہ افغانستان کی تاریخ، تہذیب، روحانی شخصیات اور افغان قوم کے مستقبل کے بارے میں اقبال کے فکری خیالات کا مجموعہ ہے۔
اس مثنوی کا آغاز افغانستان کے بادشاہ محمد نادر شاہ کے ذکر سے ہوتا ہے۔ اقبال نے ان کے بارے میں لکھا:
نادر افغان شہ درویش خو
رحمتِ حق بر روانِ پاکِ او
مفہوم: افغان بادشاہ نادر شاہ درویش صفت انسان تھا، اللہ تعالیٰ اس کی پاک روح پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
اقبال نے نادر شاہ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا اور ان کی وفات پر اظہارِ افسوس بھی کیا۔
اسی مثنوی میں ایک مقام پر اقبال افغان قوم کی طرف سے ایک فکری مکالمہ پیش کرتے ہیں:
از غمِ تو ملتِ ما آشناست
می شناسیم این نواہا از کجاست
مفہوم: ہماری قوم تمہارے درد اور تمہارے احساسات سے آشنا ہے، ہم جانتے ہیں کہ تمہارے یہ نغمے اور آوازیں کہاں سے اٹھتی ہیں۔
یہ اشعار اقبال اور افغان قوم کے درمیان فکری اور روحانی قربت کا خوبصورت اظہار ہیں۔
اسی طرح اقبال افغان سرزمین کی جغرافیائی اور تاریخی اہمیت بیان کرتے ہوئے خیبر کے بارے میں لکھتے ہیں:
خیبر از مردانِ حق بیگانه نیست
در دلِ او صد ہزار افسانہ ایست
مفہوم: خیبر مردانِ حق اور اہلِ عزم کی تاریخ سے ناواقف نہیں، اس کے سینے میں ہزاروں داستانیں محفوظ ہیں۔
یہ شعر خیبر کے تاریخی کردار اور اس خطے کی اجتماعی یادداشت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔
افغان سرزمین کے بہادر اور جری لوگوں کی تصویر کشی کرتے ہوئے اقبال کا ایک اور خوبصورت شعر ہے:
سرزمینی کبکِ او شاہین مزاج
آہویِ او گیرد از شیران خراج
مفہوم: یہ ایسی سرزمین ہے جہاں کا چکور بھی شاہین جیسا مزاج رکھتا ہے اور جہاں کا ہرن شیروں سے بھی خراج وصول کرتا ہے۔
یہاں اقبال نے افغان سرزمین کے لوگوں کی جرأت، آزادی پسندی اور غیر معمولی حوصلے کو شعری انداز میں بیان کیا ہے۔
اقبال کا افغان قوم سے فکری خطاب
مثنوی ’’مسافر‘‘ کا ایک اہم حصہ ’’خطاب بہ اقوام سرحد‘‘ ہے۔ اس میں اقبال سرحدی اقوام اور افغان معاشرے کو خودی، خودشناسی، اتحاد اور روحانی بیداری کا پیغام دیتے ہیں۔
ایک مقام پر وہ لکھتے ہیں:
میر خیل! از مکرِ پنهانی بترس
از ضیاعِ روحِ افغانی بترس
مفہوم: اے قوم کے سردار! اندرونی سازشوں اور پوشیدہ انتشار سے خبردار رہو، افغان روح اور قومی تشخص کے زوال سے ڈرو۔
یہاں اقبال کا مقصد افغان قوم کو اپنی اجتماعی قوت، قومی یکجہتی اور روحانی تشخص کی حفاظت کی طرف متوجہ کرنا ہے۔
اسی مثنوی میں اقبال افغان معاشرے کی اندرونی تقسیم اور بے مرکزی پر تنقید بھی کرتے ہیں:
لیکن از بے مرکزی آشفته روز
بے نظام و ناتمام و نیم سوز
مفہوم: لیکن مرکزیت اور اتحاد کے فقدان نے اس سرزمین کو انتشار سے دوچار کر رکھا ہے، اس کا اجتماعی نظام نامکمل اور منتشر ہے۔
یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اقبال کی محبت محض تعریف و توصیف تک محدود نہیں تھی۔ وہ افغان قوم کی بہادری اور تاریخی عظمت کے معترف ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی داخلی کمزوریوں، انتشار اور عدم اتحاد پر بھی تنقید کرتے تھے۔ ان کے نزدیک قوموں کی حقیقی قوت اتحاد، خودشناسی اور اجتماعی نظم میں پوشیدہ ہے۔
کابل، غزنی اور قندھار: اقبال کی نظر میں تاریخی ورثہ
کابل پہنچنے کے بعد اقبال نے اس شہر کے حسن اور تاریخی اہمیت کو بھی اپنے اشعار میں بیان کیا:
شہرِ کابل خطۂ جنت نظیر
آبِ حیواں از رگِ تاکش بگیر
مفہوم: کابل ایک جنت نظیر خطہ ہے، اس کے انگوروں کی بیلوں سے گویا آبِ حیات حاصل ہوتا ہے۔
اقبال نے کابل کو ایک ایسی سرزمین قرار دیا جس کی خوبصورتی، آب و ہوا اور تہذیبی عظمت انسان کو متاثر کرتی ہے۔
غزنی میں حکیم سنائی کے مزار پر حاضری اقبال کے سفر کا ایک انتہائی روحانی اور ادبی لمحہ تھا۔ حکیم سنائی فارسی ادب کے عظیم صوفی شاعر تھے اور اقبال ان کے فکری و روحانی اثرات سے بخوبی واقف تھے۔
اسی طرح سلطان محمود غزنوی کے مزار پر حاضری نے انہیں برصغیر اور افغانستان کے مشترکہ تاریخی ورثے کی یاد دلائی۔
قندھار میں خرقہ مبارک کی زیارت اور احمد شاہ ابدالی کے مزار پر حاضری بھی اس سفر کے یادگار لمحات تھے۔ احمد شاہ ابدالی کو اقبال نے افغان ملت کی تشکیل اور تاریخ کے حوالے سے ایک نمایاں مقام دیا۔
یہ تمام مقامات اس بات کی علامت ہیں کہ اقبال افغانستان کو محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک عظیم تاریخی، ادبی اور روحانی ورثے کا امین سمجھتے تھے۔
آج کے پاکستان اور افغانستان کے لیے اقبال کا پیغام
آج جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مختلف نوعیت کے چیلنجز سے دوچار ہیں، سرحدوں پر کشیدگی اور باہمی بداعتمادی کی کیفیت پائی جاتی ہے، تو ایسے وقت میں اقبال کے افکار کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
اقبال کو صرف شاعری، فلسفے اور خودی کے تصور تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ ان کے اس پیغام کو بھی سمجھنا چاہیے جو قوموں کے درمیان احترام، اتحاد، خودداری، امن اور باہمی تعاون کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں اقبال کے پیغام کو اپنے اپنے قومی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر سمجھنے کی کوشش کریں۔ افغانوں کو پاکستان کے قومی شاعر کے افکار سے آگاہ ہونا چاہیے اور پاکستانیوں کو بھی اقبال کے اس فکری ورثے کا مطالعہ کرنا چاہیے جس میں افغانستان اور افغان قوم کے لیے محبت اور احترام کا جذبہ نمایاں ہے۔
علامہ اقبال کے یومِ ولادت پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم ان کے افکار کو محض تقریبات، تقاریر اور رسمی خراجِ عقیدت تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ انہیں نئی نسل تک پہنچانے کی سنجیدہ کوشش کریں گے۔
میری خواہش ہے کہ اقبال کا یہ پیغام پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان دوستی، محبت، بھائی چارے اور امن کے فروغ کا ذریعہ بنے۔ ایک ایسا ماحول قائم ہو جہاں دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے مشترکہ تاریخ، ثقافت، ادب اور انسانی رشتوں کی بنیاد پر قریب آئیں۔
اقبال کا پیغام سرحدوں سے بلند ہوکر انسانوں کو جوڑنے کا پیغام ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس پیغام کو سمجھیں، اپنائیں اور آنے والی نسلوں تک پہنچائیں۔
— حبیب الحسن یاد