پشاور (کرائم رپورٹر، حسبان میڈیا)
خیبر پختونخوا پولیس نے صوبے کے 12 مخصوص اضلاع میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے فنڈز کا ایک اہم ڈرافٹ وزیر اعظم پاکستان کو ارسال کر دیا ہے۔ مالی سال 27-2026 کے لیے تیار کیے گئے اس جامع منصوبے کے تحت مروجہ بجٹ الاٹمنٹ کے علاوہ 25 ارب روپے کے اضافی فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق اس خطیر رقم کا بڑا حصہ جدید ترین اسلحہ و بارود کی خریداری، بلٹ پروف گاڑیوں، انسدادِ دہشت گردی کے آلات، اور انفراسٹرکچر کی ڈیجیٹلائزیشن پر خرچ کیا جائے گا۔
موصولہ دستاویز کے تفصیلی مندرجات کے مطابق پولیس فورس کی آپریشنل صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے 2 ارب 40 کروڑ روپے سے زائد کا اسلحہ و بارود، جبکہ پشاور اور دیگر حساس علاقوں کے لیے اربوں روپے مالیت کی سنگل اور ڈبل کیبن فور بائی فور گاڑیاں مانگی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ افسران اور جوانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے 43 بلٹ پروف گاڑیوں کی سائیڈ آرمرنگ کے لیے 23 کروڑ 10 لاکھ روپے اور 10 آرمرڈ پرسنل کیریئرز (APCs) کے لیے 1 ارب 20 کروڑ روپے مختص کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ امن و امان کے لیے درپیش جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پولیس نے پہلی بار ڈرون ٹیکنالوجی پر بھاری سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت 17 اینٹی ڈرون سسٹم اور 116 سرویلنس ڈرونز کی خریداری کے لیے کروڑوں روپے کا بجٹ طلب کیا گیا ہے۔
دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ ڈی آئی خان، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور او ڈی آئی خان جیسے پسماندہ اور سکیورٹی کے لحاظ سے حساس اضلاع میں پولیس نیٹ ورک کو جدید بنانے کے لیے خصوصی فنڈز مانگے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں ڈی آئی خان میں 7 نئے تھانوں کی تعمیر، ڈی پی او آفس اور سیف سٹی بلڈنگ کے لیے 1 ارب 59 کروڑ روپے سے زائد کی رقم شامل ہے۔ وفاق کو بھیجے گئے اس ڈرافٹ میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ صوبے میں پائیدار امن کے قیام اور پولیس فورس کو دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنانے کے لیے وفاقی حکومت ان اضافی فنڈز کی فراہمی کو جلد از جلد یقینی بنائے گی۔