انڈونیشیا: جاوا سی میں 243 مسافروں پر مشتمل بحری جہاز لاپتا، وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن جاری، 103 افراد محفوظ
جکارتا: انڈونیشیا میں ایک مسافر بحری جہاز سمندر میں سفر کے دوران اچانک لاپتا ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں کروڑوں کی آبادی والے جزائر پر مشتمل اس ملک میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا اور مقامی حکام کے مطابق، لاپتا ہونے والے اس بحری جہاز میں مجموعی طور پر 243 مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی انڈونیشیا کے نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ڈپارٹمنٹ نے سمندر میں بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق یہ مسافر بحری جہاز جاوا کے معروف صنعتی شہر سورابایا سے بورنیو جزیرے کے جنوبی کالیمانتان صوبے کے شہر بنجرماسن کی طرف گامزن تھا کہ جاوا سی (Java Sea) کے وسط میں اس کا رابطہ کنٹرول روم سے منقطع ہو گیا۔ انڈونیشیا کے سرچ اینڈ ریسکیو آفس کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ جہاز کی آخری معلوم پوزیشن بنجرماسن کی بندرگاہ سے تقریباً 148 کلومیٹر دور ریکارڈ کی گئی تھی۔ تاحال موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، سمندری حدود میں جاری سرچ آپریشن کے نتیجے میں 103 مسافروں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے، جبکہ ریسکیو حکام نے ایک مسافر کی ہلاکت کی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔
انڈونیشین حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کے کپتان اور عملے سے آخری بار رابطہ ہونے پر انہوں نے شدید سمندری طوفان اور انتہائی خراب موسم کا سامنا کرنے کی اطلاع دی تھی، جس کے بعد رابطہ اچانک منقطع ہو گیا۔ ماہرین کا خدشہ ہے کہ جہاز خراب موسم کی وجہ سے کسی حادثے کا شکار ہوا ہے۔ لاپتا ہونے والے بقیہ مسافروں کی تلاش کے لیے انڈونیشین بحریہ اور کوسٹ گارڈ کے طیارے اور کشتیاں سمندر میں مصروفِ عمل ہیں، تاہم شدید لہروں اور مخدوش موسمی حالات کے باعث امدادی ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔